لاہور: پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے
[2010-02-25] شکیل اعوان کامقابلہ شیخ رشید نہیں ایوان صدر کے ساتھ تھا ۔ ناصراقبال خان
لاہور۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق میڈیا کوآرڈی نیٹر محمد ناصراقبال خان نے کہا ہے کہ شکیل اعوان کامقابلہ شیخ رشید نہیں ایوان صدر کے ساتھ تھا۔عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی شکست میاں نوازشریف کے احسانات فراموش کرنے کانتیجہ ہے۔این اے55کے غیوراورباضمیر عوام نے بیوفائی کی سیاست کاباب بندکردیا۔فرزندراولپنڈی کی سیاست مفادات سے عبارت تھی،عوام نے دوسری باربھی انہیں مسترد کردیا ۔شیخ رشید کوان کی ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی، خودپسندی اورخوش فہمی نے ڈبودیا۔مسلم لیگ (ن) کامقابلہ کرتے ہوئے مسلسل دوسری بار بدترین شکست کے بعد شیخ رشید کاسیاسی مستقبل سوالیہ نشان بن گیا ۔امید ہے اب وہ کبھی انتخابی سیاست کارخ نہیں کریں گے،ورنہ مسلسل چھ بارکامیاب ہونے والے کو اب شکست فاش کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔اپنے ایک بیان میں محمد ناصراقبال خان نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی دشمنی میں شیخ رشید کی حمایت کرنے والے حکمران اورسیاستدان اب اپنا منہ چھپاتے پھررہے ہیں۔شکیل اعوان کے ہاتھوںشیخ رشید کی شرمناک شکست کواگر قدرت کاانتقام کہا جائے توبے جانہ ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف کا شیخ رشید کے حق میںبیان آنے سے ان کی ہار مزید یقینی ہوگئی تھی۔سانحہ لال مسجد اورجامعہ حفصہ کے حوالے سے شیخ رشید کی معافی ان کااعتراف گناہ بن گئی اوروہ وو ٹ کے انتقام کانشانہ بن گئے۔2002ءکے عام انتخابات میں انہیںمیاںنوازشریف کے نام پر ووٹ ملے لیکن وہ وزرات کیلئے فوجی آمر پرویز مشرف کے ترجمان بن گئے،انہیںمیاں نوازشریف اورعوام کے ساتھ اس بدعہدی کی سزا مل گئی ۔