مساجد کاتقدس
کبھی سوچا نہ تھا کہ یہ دن بھی آئیں گے ،
[2010-01-10] رینجرز اورگنڈا سنگھ بارڈر
بھارت کی ثقافتی یلغار کے باوجود جب پاکستان اوربھارت کے عوام ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتے ہیں توموسم سرماکے باوجودماحول گرم ہوجاتا ہے ۔وہ کھیل کامیدان ہویامیدان جنگ یاپھر بارڈرز پردونوں ملکوں کے پرچم اتارنے کی تقریبات ہوں۔دونوں طرف کے عوام میںایک خاص جوش پیدا ہوجاتا ہے ۔چند روز قبل ایک دوست کے ساتھ بابابلھے شاہؒ اورمیڈم نورجہاں کی دھرتی قصورکی گنڈا سنگھ جوائنٹ چیک پوسٹ پر پاکستان اوربھارت کے پرچم اتارنے کی پروقار تقریب میں شریک ہونے کااتفاق ہوا۔ گنڈا سنگھ جے سی پی فیروزپورروڈ پر قائم ہے ،یہ اہم شاہراہ مزنگ چونگی لاہور سے شروع ہو کر قصور اورگنڈا سنگھ سے ہوتی ہوئی بھارت کے اندر فیروزپور تک جاتی ہے ۔گنڈا سنگھ چیک پوسٹ سے کافی پہلے رینجرز کے مستعد جوانوں نے سڑک پرحفاظتی اقدامات کررکھے تھے جہاں سے ہرگزرنے والے افراد اورگاڑیو ں کی کسی امتیاز کے بغیر تلاشی لی جارہی تھی ۔ہم نے بھی گاڑی سے اتر کرتلاشی دی اورآگے روانہ ہوگئے جہاں کچھ مزید رینجرز اہلکار تلاشی لے رہے تھے۔وہاں گنڈا سنگھ چے سی پی کے سکیورٹی انچارج عبدالرﺅف جورینجرز کے یونیفارم میں کافی جچ رہے تھے ،انہوں نے بڑی خوش اخلاقی سے ہمیں خوش آمدید کہا اوراپنی نگرانی میں ہماری اورگاڑی کی تلاشی کرائی ۔صاف ستھرااوراچھا سلاہوایونیفارم کسی بھی فورس کے جوانوں کومزید سمارٹ اورہینڈسم بنادیتا ہے ۔سکیورٹی انچارج سب انسپکٹر عبدالرﺅف جواپنے میٹھے لہجے سے سندھ کے باشندے لگ رہے تھے ،انہوں نے وہاں آنیوالے افراد کو واک تھرو گیٹ پرفرداً فرداً خوش آمدید کہا اورممنوعہ سامان کیمرے وغیرہ پریڈ کے مقام پر ساتھ لے جانے سے روک دیا۔گنڈا سنگھ چیک پوسٹ پررینجرزاہلکاروں کاڈسپلن ،وہاں ہریالی اورمختلف اقسام کے پھولوں کی کیاریاں دیکھ کر دلی خوشی ہوئی ۔سکیورٹی انچارج سب انسپکٹرعبدالرﺅف نے مجھے بتایا کہ ہمارے انچارج کرنل فرخ ستار ڈسپلن اورصفائی پرکوئی کمپرومائز نہیں کرتے ۔
ہم بھی مہمانوں کیلئے مخصوص نشستوں پر بیٹھ گئے ،ابھی پرچم اتارنے کی تقریب شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا ۔بھارت کی سائیڈپر ان کے قومی نغمے فضا میں گونج رہے تھے جبکہ ہماری طرف گہری خاموشی تھی ،ایک اہلکار سے دریافت کیا تواس نے بتایا کہ لوڈ شیڈنگ کے سبب ہماری طرف بجلی بند ہے ۔مجھے یہ سن کرانتہائی افسوس ہوا کہ اس قسم کے اہم اورحساس مقامات بھی لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہیں۔ میرے خیال میں ان حساس مقامات پرہروقت بجلی کامتبادل انتظام ضرورہونا چاہئے ۔ اتفاق سے اس وقت پاکستان کا سبزہلالی پرچم پوری آن بان سے لہرا رہاتھا جبکہ بھارت کاپرچم بالکل بے جان تھا ۔ طوطے اورکوے وغیرہ بارڈراوربندوق کی پرواہ کئے بغیر پاکستان سے بھارت اوربھارت سے پاکستان آجارہے تھے ،ان پرندوں کو آتاجاتادیکھ کر مجھے لگا وہ ہم انسانوں سے زیادہ آزاد ہیں ۔
گنڈا سنگھ جوائنٹ چیک پوسٹ کے انچارچ کرنل فرخ ستارمان بڑے باقاراورپراعتمادانداز میں اندر داخل ہوئے اوراپنی مخصوص چیئر پربراجمان ہوگئے ۔ کرنل فرخ ستارمان ایک پروفیشنل سولجر اورسنجیدہ شخصیت ہیں،ان کی وردی کے سٹارزدمک رہے تھے۔کرنل فرخ کے آنے کے فوراً بعد بھارت کی سائیڈ سے ان کے بھی کرنل آکراپنی مخصوص نشست پربیٹھ گئے اور پھر تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ۔پاکستان کی طرف سے دیوقامت اورخوش شکل سب انسپکٹر محمدعاصم جووردی میں کسی ایکشن فلم کے ہیرولگ رہے تھے، انہوںنے تقریب کاآغاز کرنے کیلئے کرنل فرخ ستارمان سے اجازت طلب کی۔دونوں طرف سے پریڈ میں شریک رینجرز کے بوٹوں کے نیچے لوہے کااستعمال کیا جاتا ہے اوردوران پریڈان سے ایک مخصوص آواز پیداہوتی ہے اوراس طرح تقریب کوچارچاندلگ جاتے ہیں۔میںپوری ایمانداری اورغیر جانبداری سے آپ کوسچائی بتاﺅں گا،پریڈ میں شریک بھارت
کے رینجرز اہلکار پاکستانی رینجرز کے مقابلے میں بونے اورہمارے جوانوں سے مرعوب لگ رہے تھے ۔ماشاءاللہ ہمارے رینجرز قدآور،توانااور اپنے کام میںماہر تھے ،ہمارے رینجرزکاقد چھ فٹ سے کم اوربھارت کے رینجرز کاقد پانچ فٹ سے زیادہ نہیں تھا۔ہمارے رینجرز کی وردی بھارتی رینجرز کی وردی سے زیادہ گریس فل ہے ۔پریڈ کے دوران ٹانگ زیادہ سے زیادہ اوپراٹھانا،اپنابوٹ زمین پر پٹخنااوراس سے زوردارآواز پیدا کرنااورپھرپورے جوش سے سینہ تان کرمخصوص اندازسے بھارتی اہلکاروں کودیکھنا یاایک طرح سے گھورنااس پرقاراورجادوئی تقریب کاحسن ہے۔پاکستان کاقومی پرچم اتارنے والے رینجرزبھارت اوربھارت کاقومی پرچم اتارنے والے اہلکارپاکستان میں کھڑے ہوکر اپنے اپنے ملک کاقومی پرچم اتارتے ہیں۔پھر دونوں طرف سے رینجرز ایک ساتھ بگل پراپنے اپنے ملک کاقومی ترانہ گاتے ہیں ،اس دوران پاکستان اوربھارت کے عوام احتراماً کھڑے ہوجاتے ہیں ۔پریڈ کے ہرمرحلے میںہمارے رینجرز نے بڑی مہارت کامظاہرہ کیا لیکن بھارت کے رینجرز اہلکار ان کامقابلہ کرنے میں پوری طرح ناکام رہے ۔پاکستان اور بھارت کے عوام نے اپنے اپنے رینجرز کی کارکردگی کوزوردارتالیاں بجاکرسراہا۔اس ماحول میں انسانوں کے دل خودبخود زورزور سے دھڑکتے ہیںاورہوش پرجوش غالب آجاتا ہے ۔ اس روزپاکستان کی سائیڈ پر آنیوالے لوگ تعدادمیں بھارت کی سائیڈ پر آنیوالے عوام سے کم تھے ،ہماری طرف سے بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوش وجذبے کے ساتھ اس پروقار تقریب میں شریک ہوناچاہئے وہ اپنے فرض شناس رینجرز کی پریڈ سے بہت لطف اندوزہوں گے ۔
تقریب کے اختتام پروہاں موجود بھارت کے شہریوں نے اپنے مذہبی اورقومی نعرے لگائے ۔جواباًراقم نے بھی پورے جوش کے ساتھ نعرہ تکبیر اللہ اکبر اورپاکستان زندہ آباد کانعرہ لگایا جس پرتقریب میں شریک پاکستانیوں نے بھرپور جذبے کے ساتھ ان نعروں کاجواب دیا۔ لیکن ایک نوجوان رینجراہلکارنے بڑے توہین آمیز انداز سے مجھے خاموش رہنے کیلئے کہا ،اس کے اندازمیںاس قدر تضحیک تھی کہ اگر وہ یونیفارم میں نہ ہوتا توشایدمیں اس سے وہیںالجھ پڑتا۔ رینجرز حکام کی طرف سے وہاں ویڈیوکیمرہ لے جانااورپاکستان کے حق میںنعرے لگانامنع ہے جبکہ بھارت کے عوام وہاں نہ صرف اپنے ویڈیوکیمروں کی مدد سے تقریب کی فلم بنارہے تھے بلکہ انہوں نے وہاں اپنے مخصوص نعرے بھی لگائے لیکن ان کے کسی اہلکار نے اپنے شہریوں کوایساکرنے سے منع نہیں کیا توپھر ہمارے رینجرز حکام اپنے عوام کویہ خوبصورت یادیں ویڈیوکیمروں میںمحفوظ کرنے سے کیوں روکتے ہیں۔اگر اس سلسلہ میں پاکستان اور بھارت کے رینجرز حکام میں کوئی ضابطہ اخلاق طے ہے تواس صورت میں بھارتی شہریوں کوبھی اس کی پاسداری کرنا چاہئے ورنہ پاکستانیوں کوروکنا مناسب نہیں ۔ کسی ادارے یاچندافرادکابنایا ہواکوئی نام نہاد قانون ہمارے ملک کے وقار اورہماری قومی حمیت سے زیادہ مقدم نہیں ہوسکتا ۔کون سچاپاکستانی ہے جوبھارت کے حق میں نعرے سن کر نعرہ تکبیر اورپاکستان زندہ آباد کانعرہ نہ لگائے۔اگر بھارت کے اندر کرکٹ کے میدانوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج سکتے ہیں توگنڈا سنگھ بارڈر پر کیوں نہیں۔خداراایٹمی پاکستان کے غیورعوام کوبزدلی کادرس نہ دیا جائے۔