Logo
 
 
Search News

leftop Related news
 
پنجاب حکومت کی دو سالہ کارکردگی اور پرویز الہیٰ کی لا علمی تحریر- ذوالفقار علی بلتی
جون 3 کو پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنماﺅں نے چوہدری پرویز
یہ کیا مذاق ہے
یہ کیا مذاق ہے
پاک ترک دوستی کانیا دور
پاک ترک دوستی کانیا دور
اکائیوں میں بٹے عوام متحد ہوگئے تو
اکائیوں میں بٹے عوام متحد ہوگئے تو
سیاسی تنظیمیں پاکستان سے باہر دوسرے ملکوں میںکیا کام کرتی ہیں
سیاسی تنظیمیں پاکستان سے باہر دوسرے ملکوں میںکیا کام
این اے123میں کیا ہوا
این اے123میں کیا ہوا
مفاہمانہ سیاست پاکستان کی ضرورت
مفاہمانہ سیاست پاکستان کی ضرورت
این اے55سے این اے123تک
این اے55سے این اے123تک میں دونوں سیٹیں جیت کر میاں
دوحادثات اورمیڈیا ٹرائل
دوحادثات اورمیڈیا ٹرائل لاہور میں ہونیوالے دوحادثات
رینجرز اورگنڈا سنگھ بارڈر
رینجرز اورگنڈا سنگھ بارڈر بھارت کی ثقافتی یلغار کے
اب کیا ہوگا
اب کیا ہوگا۔ ان دنوں ملک میں تبدیلی کی افواہیں زوروں
میڈیسن مافیااورلاہور جنرل ہسپتال
میڈیسن مافیااورلاہور جنرل ہسپتال ۔ ایک نوجوان کو
شہباز شریف نے میدان مار لیا
شہباز شریف نے میدان مار لیا ۔ ساتویں قومی
پلازے بنانے اوربچانے کی سیاست
پلازے بنانے اوربچانے کی سیاست ۔ کچھ روز ہوئے فیروز
مساجد کاتقدس
مساجد کاتقدس کبھی سوچا نہ تھا کہ یہ دن بھی آئیں گے ،

leftbottom   rightbottom
topleft [2009-12-31]   آ بیل مجھے مار toprightside
 

آبیل مجھے مار ۔

 میں کسی سے ڈکٹیشن نہیںلوں گا(ایوان صدر کی طرف اشارہ تھا)اس جذباتی فقرے سمیت میاں نوازشریف نے بھی قوم کواپنا ایک ایک قصورگنوایا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اوربھی بہت کچھ فرمایا تھا اپنے خطاب میں ،لیکن صدرغلام اسحاق خان پیپلزپارٹی سمیت دوسری مقتدر قوتوں کے آشیرباد سے فیصلہ کرچکے تھے اورمیاں نوازشریف کو بھی یہ بات معلوم تھی۔اسلئے میاں نوازشریف نے قوم کی ہمدردیاں حاصل کرنے اورووٹ بینک بڑھانے کیلئے ایک جذباتی تقریر کی تھی ۔غلام اسحاق خان مرحوم نے میاں نوازشریف کیخلاف ایک ریڈی میڈ چارج شیٹ سنائی اور اٹھاون ٹوبی کااختیار استعمال کرتے ہوئے میاں نوازشریف کی منتخب حکومت کوبرطرف کردیا ۔میاں نوازشریف نے ایوان صدر کے اس ا قدام کیخلاف عدالت عظمیٰ کادروازہ کھٹکھٹایا اوروہاں سے اپنی منتخب حکومت بحال کرانے میں کامیاب رہے ۔لیکن اِس کے باوجود انہیں کچھ دنوں بعد اُس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالوحیدکاکڑکے دباﺅپر وزرات عظمیٰ سے مستعفی ہوناپڑا ۔جذباتی خطاب سے بیچارے عوام کوتومتاثر کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا کرنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے ۔اگر ہوش پرجوش حاوی ہوجائے تو اکثرنتیجہ بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جب بھی ہمارے کسی حکمران نے اپنے اقتدار کی مضبوطی کا دعویٰ کیا اس کااقتدارجاتارہا ۔امریکہ کڑے وقت میں پاکستان کو بچانے کیلئے آیا تھااورنہ اس نے کبھی اپنے کسی وفادارحکمران کو بچایاہے۔امریکہ نے ہردورمیں اپنی پالیسی کے مطابق خرگوش اورشکاری دونوں کا ساتھ دیا،جوکامیاب رہے امریکہ اس کے ساتھ ہوجاتاہے ۔
 صدرمملکت آصف زرداری نے پچھلے دنوں نوڈیرومیں اپنے جذباتی خطاب میں جوکچھ فرمایا وہ سن کر "آبیل مجھے مار"کا محاورہ یادآگیا ۔صدرآصف زرداری کے پرجوش خطاب کے بعد ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کوبعض باتوں کی وضاحت پیش کرناپڑی لیکن ان کی وضاحت نے معاملات کو مزید الجھادیا ہے۔صدرمملکت کی تقریر سے مختلف طبقات اپنااپنا مطلب نکال ر ہے ہیں ۔ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں سب کچھ ہمارے اختیار میں نہیں ہے ۔ایک فیصلہ ہم کرتے ہیں اورایک فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہوتا ہے ۔ بابائے قوم ؒ اورلیا قت علی خان کی وفات کے بعدہمارے ہاں جوبھی فوجی ہویاسول آمرآیا اس نے خود کوپاکستان کیلئے ناگزیر سمجھااوراپنا اقتدار مضبوط کرنے کیلئے اداروں کویرغمال بنایااورآئین کا حلیہ تک بگاڑدیا،لیکن اس کے باوجود جب ان کاوقت پوراہوگیا توانہیں اقتدار سے محروم ہوناپڑا۔ابھی صدرآصف زرداری کے معتمد خاص اورقومی اسمبلی کی خاتون سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے خاوند ذوالفقار مرزا کے خطاب کی گونج تھمی نہیں تھی کہ صدرآصف زرداری نے بھی ایک جذبا تی تقریر کرڈالی ۔کیا ان کی جذباتی تقریر سے ان کے مخالفین یاملک دشمن عناصر مرعوب ہوکراپنے اپنے گھروں میںبیٹھ جائیں گے ۔اگر وہ خود کواس قدر مضبوط اورحق پرسمجھتے ہیں توانہیں ان نان اسٹیٹ ایکٹرز کوایکسپوز کرناچاہئے تھا جوخدانخواستہ ہمارے ملک کوتوڑنایاپھر جمہوریت کوبلڈوزکرناچاہتے ہیں۔کیا انہیں فرینڈلی اپوزیشن سے خطرہ ہے ،جوصرف میاں نوازشریف کی راہ میں حائل سترہویں ترمیم کی دیوار گراناچاہتی ہے۔مسلم لیگ (ن) اس وقت اقتدار میں آنے کیلئے بے چین یا پریشان نہیں
ہے کیونکہ ان حالات میں ملک وقوم کوڈیلیور کرناآسان نہیں۔ مسلم لیگ (ن) اس حق میں ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے تاکہ پیپلزپارٹی کاگراف مزید نیچے گرجائے اوراگلے الیکشن میںمسلم لیگ (ن) کیلئے میدان صاف ہوجائے۔مڈٹرم الیکشن کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کایوٹرن اس حقیقت کاآئینہ دار ہے ۔بعض اوقات جوکام دشمن کی حیثیت سے نہیں کیا جاسکتا وہ دوستی کی آڑ میں باآسانی کرلیا جاتا ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان "دوستی©"شاید اسی بنیاد پر ہوئی تھی۔اقتدار بڑی بری شے ہے، میثاق جمہوریت کے علمبرداروں نے اس کومذاق جمہوریت بنادیا۔
 آصف زرداری کیخلاف مواخذے کی تحریک پیش کرکے انہیں صدارت سے ہٹانا تقریباً خارج ازامکان ہے اوراستعفیٰ دینا یانہ دینا ان کے اپنے اختیار میں ہے تو پھر وہ کیوں پریشان اورکس سے خوفزدہ ہیں۔وہ اپنے این آراوزدہ وزراءکوبچانے کیلئے ایوان صدر کا وقار کیوں داﺅپرلگارہے ہیں۔صدرمملکت آصف زرداری کی حالیہ تقریر ان کے منصب کے شایان شان نہیں تھی ،ان کے خیالات پر ان کے جذبات کا غالب آناریاست ،جمہوریت اورمعیشت کیلئے اچھاشگون نہیں ہے۔صدرمملکت وفاق کی علامت ہوتا ہے،اسے ہرقسم کی صوبائیت اورمنافرت سے ماورا ہوناچاہئے۔اصولی طور پرآصف زرداری کوصدر مملکت کاحلف اٹھانے کے بعد آئینی تقاضاپوراکرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کاعہدہ چھوڑدیناچاہئے تھا ۔صدرزرداری کی پرجوش تقریر سے جو ابہام پیداہواہے اس سے جہاں عوام حکمرانوں پرانگلیاں اٹھائیں گے وہاں جمہوریت بھی کمزور ہوگی ۔اداروں سے اختیارات چھین کر جمہوریت کو مضبوط اورمحفوظ نہیں بنایا جاسکتا،بدقسمتی سے اس معاملے میں فوجی اورسول حکمرانوں کی سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
 مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے اپنے حالیہ بیان میں فرمایا ہے " جمہوریت کوخطرہ ہواتووہ سب سے پہلے میدان میں ہوں گے "لیکن انہوں نے قوم کو یہ نہیں بتایاکہ12اکتوبر1999ءکی شام جب فوجی آمر پرویز مشرف نے ان کی منتخب حکومت اورجمہوریت پرایک ساتھ شب خون مارا تھا تواس وقت وہ میدان چھوڑکر جدہ کے سرور پیلس میںکیوں چلے گئے تھے ۔اس وقت پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف سمیت بعض دوسری سیاسی جماعتوں نے فوجی آمر کی آمد پر مٹھائیاں تقسیم کی تھیں۔ہمارے ہاں سیاستدان ایک دوسرے کی دشمنی میں جمہوری سیاسی قدروں کوپامال کرتے چلے جاتے ہیں ۔ فوجی آمرکونجات دہندہ قراردے کراس کی شان میں گیت گاتے ہیں اوراسے دس باروردی سمیت صدر منتخب کرانے کادعویٰ بھی کیا جاتا ہے ۔پاکستان کے کمزور سیاسی ادارے جمہوریت کی حفاظت کرسکتے ہیں اورنہ کسی فوجی آمر کا راستہ روک سکتے ہیں۔ملک میںجمہوریت کے استحکام اوردوام کیلئے سیاسی ادارو ں کومضبوط ،منظم اورفعال کرناہوگا لیکن سیاستدان اقرباءپروری اورپسندناپسند کی بنیاد پرفیصلے کرتے رہے تو یہ خوا ب قیامت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

 
leftbottom rightbottom